کیا شیعہ کافر نہیں ہیں؟

شیعہ حضرات اکثر ائمہ میں سے ایک دو کے اقوال پیش کر کے کہتے ہیں کہ دیکھئے ، آپ کے ائمہ کے مطابق ہم کافر نہیں قرار پاتے۔ لا حول ولا قوة الا باللہ۔اصل میں مسئلہ یہ ہے کہ شیعہ حضرات تقیہ کے پیروکار ہیں۔ اس تقیہ کی روشنی میں وہ اپنے عقائد سنی حضرات سے چھپا کر رکھتے رہے ہیں۔ پس ہمارے کئ ائمہ کرام اور علماء کرام کو ان کے ان عقائد کا پتہ نہ چلا، لیکن جس نے بھی ان کے عقائد معلوم کئے، انہوں نے ان کے کفر کا فتوٰی دیا۔ جنہوں نے شیعوں کو صریحا کافر قرار نہیں دیا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے ان عقائد کے حامل گروہ کو کافر قرار نہیں دیا، بلکہ ان کو یہ معلوم نہ ہو سکا کہ شیعوں کے یہی عقائد ہیں۔ ایک اور بات زہن میں رہنی چاہئیے کہ ہو سکتا ہے کہ شیعوں کے کسی ایک عقیدہ کو بعض ائمہ نے کفر کے زمرے میں شامل نہ کیا ہو، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ا ن کی نظر میں شیعہ کافر نہیں، یا ان کی نظر میں شیعوں کے بقیہ عقائد کفر کے زمرے میں نہیں آتے۔ اس مضمون کے آخر میں میں شیعوں کے اہل سنت کے بارے میں عقائد بھی پیش کروں گا۔ امید ہے اس سے بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ ہو جائے گا۔

امام بخاری فرماتے ہیں

ما أبالي صليت خلف الجهمي والرافض أم صليت خلف اليهود والنصارى ولا يسلم عليهم ولا يعادون ولا يناكحون ولا يشهدون ولا تؤكل ذبائحهم
میں کسی جہمی یا رافضی یا عیسائ یا یہودی کے پیچھے نماز پڑھنے میں کوئ فرق نہیں پاتا۔ ان کو نہ ہی سلام کرنا چاہئیے ، نہ ہی ان سے ملنا چاہئیے ، نہ ہی ان سے نکاح کرنا چاہئیے ، نہ ان کی شہادت قابل قبول ہے اور نہ ہی ان کا زبیحہ کھایا جائے۔

خلق افعال العباد ، ص ١۳

حضرت امام مالک نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی کو بھی مثلا حضرت ابوبکر کو یا حضرت عمر کو اوریا حضرت عثمان یا حضرت معاویہ یا حضرت عمرو بن عاص کو برا کہنے والے کے بارہ میں حکم بیان کرتے ہوئے یوں فرمایا ہے کہ اگروہ شخص یہ کہے کہ وہ (صحابہ )گمراہ تھے یا کافر تھے تو اس شخص کو قتل کیا جائے
من شتم أحداً من أصحاب محمد أبا بكر أو عمر أو عثمان أو معاوية أو عمرو ابن العاص، فإن قال كانوا على ضلال وكفر قتل

عن أبي بكر المروذي قال : سألت أبا عبد الله عن من يَشتم أبا بكر وعمر وعائشة . قال : ما رآه على الإسلام . قال : وسمعت أبا عبد الله يقول : قال مالك : الذي يشتم أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ليس لهم سهم أو قال نصيب في الإسلام
ابوبکر المروزی فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا امام احمد سے اس شخص کے متعلق جو حضرت ابوبکر ، حضرت عمر ، حضرت عائشہ ﴿رضی اللہ عنہم اجمعین﴾ کو برا کہے تو آپ نے فرمایا ؛ اس کا اسلام سے کوئ تعلق نہیں۔ ابوبکر المروزی فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد کو فرماتے ہوئے سنا کہ امام مالک نے فرمایا کہ جو شخص نبی کریم ﴿ص﴾ کے صحابہ کو برا کہے تو ان کا کوئ حصہ نہیں یا فرمایا ان کا کوئ حصہ نہیں اسلام میں۔
السنہ للخلال ج ۳ ص ۴۹۳

نیز امام احمد سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جس شخص نے نبی کریم ﴿ص﴾ کے صحابی کو گالی دی ﴿﴿قد مَرَقَ عن الدِّين﴾﴾ تو وہ دین سے نکل گیا۔
السنہ للخلال ج ۳ ص ۴۹۳

على بن عبد الصمدقال سالت احمد بن حنبل عن جار لنا رافضى يسلم على ارد عليه قال لا
علی بن عبدالصمد فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے پوچھا کہ ہمارے پڑوس میں رافضی ہے، جو مجھ کو سلام کرتا ہے تو کیا میں اس کو جواب دوں؟ آپ نے فرمایا ؛ نہیں۔
السنہ للخلال ج ۳ ص ۴۹۳

الحسن بن على الحسن انه سئل عبدالله عن صاحب بدعة يسلم عليه قال اذا كان جهميا او قدريا او رافضيا داعية فلا يصلى عليه و لا يسلم عليه
حسن بن علی الحسن نے سوال کیا امام احمد سے صاحب بدعت کے بارے میں کہ وہ ان کو سلام کرتا ہے تو انہوں نے فرمایا جب جہمی یا قدریہ یا رافضی بلائے تو اس پر نہ نماز جنازہ پڑھو اور نہ اس پر سلام کرو۔
السنہ للخلال ج ۳ ص ۴۹۴

ابوبکر بن عیاش فرماتے ہیں
لا اصلي على رافضى
کہ میں رافضی کی نماز جنازہ نہیں پڑھتا۔
المغنی ج ۵ ص ٦۲

حافظ ابن تیمیہ فرماتے ہیں
و مذهب الرافضة شر من مذهب الخوارج المارقين , فان الخوارج غايتهم تكفير عثمان و على و شيعتهما و الرافضة تكفير ابى بكر و عثمان و جمهور السابقين الاولين
اور رافضہ کا مذہب دین سے نکل جانے والے خارجیوں سے بدتر ہے کیونکہ خوارج کی انتہا حضرت عثمان اور حضرت علی اور ان کے گروہ کی تکفیر تھی اور روافض نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان اورتمام سابقین و اولین کی تکفیر کی۔
مجموعة فتاوٰی ابن تیمیة ج ٦ ص ۴۲١

محیط میں حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ رافضیوں کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے کیونکہ وہ حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت کے منکر ہیں ۔ خلاصہ میں لکھا ہے : من انکرخلافۃالصدیق فہوکافر یعنی جس شخص نے ابوبکر صدیق کی خلافت کاانکار کیا وہ کافر ہیں۔

حضرت مالک بن انس کا قول ہے
من غاظه أصحاب محمد فهو كافر لقولـه تعالى: لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ
جس شخص نے اصحا ب محمد کے تئیں بغض وغصہ رکھا ،وہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ” تاکہ ان سے کافروں کوغصہ دلائے (الفتح : ۲۹)” کے بموجب کافر ہے۔

فتاوی عالمگیری میں درج ہے
من انکرامامہ ابی بکر الصدیق فہوکافر علی قول بعضہم وقال بعضہم ہو مبتدع ولیس بکافر والصحیح انہ کافر کذلک من انکر خلافۃ عمر فی اصح الاقوال ویجب اکفار الروافض فی قولہم برجہۃالاموات الی الدنیا وتناسخ الارواح
شخص نے ابوبکر کی امامت کبریٰ کا انکار کیاوہ بعض حضرات کے قول کے مطابق کافرہے جب کہ بعض حضرات کاکہنا ہے کہ وہ مبتدع قرار پائے گا اس کو کافر نہیں کہیں گے لیکن صحیح بات یہی ہے کہ وہ کافر ہے۔ اسی طرح قول صحیح کے مطابق وہ شخص بھی کافر ہوجائے جو حضرت عمر کی خلافت کاانکار کرے گا نیز رافضیوں کو اس بنا ء پر کافر قرار دینا واجب ہے کہ وہ مردوں کے دنیا میں لوٹنے اور تناسخ ارواح کے قائل ہیں

فتاوی عالمگیری ج ١۷ ص ١۵۴

مرقاۃ میں ملا علی قاری فرماتے ہیں
قلت وهذا في غير حق الرافضة الخارجة في زماننا فإنهم يعتقدون كفر أكثر الصحابة فضلا عن سائر أهل السنة والجماعة فهم كفرة بالإجماع بلا نزاع
میںکہتا ہوں کہ یہ بات ہمارے زمانہ کے رافضیوں اور خارجیوں کے حق میںصادق آتی ہے کیونکہ ان فرقوں کے لوگ اکابر صحابہ میں سے اکثر کے کفر کاعقید ہ رکھتے ہیں اورتمام اہل سنت والجماعت کوبھی کافر سمجھتے ہیں ان فرقوں کے کافر ہونے پر اجماع ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

مرقاة ۹/١۳۷

امام ابوزرعہ نے جو امام مسلم کے جلیل القدر شیوخ میں سے ہیں کہا ہے کہ اگر کوئی شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی کی تنقیض وتوہین کرے تو بلاشبہ وہ زندیق ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن حق ہے اوررسول جو کچھ (دین وشریعت ) لے کر آئے وہ حق ہے نیز ان سب (قرآن اوردین وشریعت )کو نقل اورہدایت کے ذریعہ ہم تک پہنچانے والے ان صحابہ کے علاوہ اورکوئی نہیں ہے پس جس شخص نے ان صحابہ میں عیب ونقص نکالا اس نے دراصل کتاب وسنت کو باطل اورلغو قرار دینے کا ارادہ کیا ۔اس اعتبار سے سب سے بڑا عیب دار اورناقص خود وہی شخص قرار پائے گا اور اس پر زندقہ وضلالت کا حکم راست ودرست آئے گا ۔ حضرت سہل ابن عبد اللہ تستری کا قول ہے، اس شخص کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والا ہرگزنہیں کہا جا سکتا جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی توقیر نہ کی ۔

امام ذہبی فرماتے ہیں
فان كفرهما والعياذ بالله جاز عليه التكفير واللعنة
اگر شیخین کی کوئ تکفیر کرے العیاذ باللہ تو اس کی تکفیر اور اس پر لعنت جائز ہے۔

تذکرة الحفاظ ج ۲ ص ۷۵۵

امام ابو سعد السمانی الشافعی اپنی کتاب الانساب میں فرماتے ہیں
واجتمعت الامة على تكفير الامامية
امامیہ کی تکفیر پر اجماع ہے۔

الانساب ج ۳ ص ١۸۸

امام انور شاہ کشمیری فرماتے ہیں
وأكفرهم الشاه عبد العزيز رحمه الله تعالى، وقال: إن من لم يكفرهم لم يدر عقائدهم
شاہ عبدالعزیز دھلوی نے ان کی تکفیر کی ہے، اور کہا ہے کہ جنہوں نے ان کی تکفیر نہیں کی، وہ ان کے عقائد پر مطلع نہ ہو سکے

فیض الباری ج ١ ص ١۰۴

مختصرا یہ کہ شیعہ امامیہ اثنا عشریہ کی تکفیر پر ائمہ کے بے شمار اقوال اور فتاوی پیش کئے جا سکتے ہیں۔ امت کا اجماع ہے کہ شیعہ امامیہ اثنا عشریہ کافر ہیں۔ مزید بہت حوالے پیش کئے جا سکتے ہیں لیکن میرے خیال میں اتنا کافی رہے گا۔

اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ شیعہ کی تکفیر کرنے والے صرف اہل سنت ہی ہیں یا شیعہ بھی اہل سنت کی تکفیر کرتے ہیں؟ تو عرض ہے کہ شیعہ بھی اہل سنت کی تکفیر کرتے ہیں، اور ان کی کتب صحابہ کرام ، ائمہ اہل سنت اور عام سنی لوگوں کی تکفیر سے بھری پڑی ہے بلکہ شیعہ کی تکفیر میں جتنے اقوال اہل سنت کی کتب میں درج ہیں، اس سے کئ گنا زیادہ تعداد میں شیعہ کتب میں صحابہ کرام، اہل سنت اور عام سنی لوگوں کی تکفیر موجود ہے۔

امام صادق سے منقول ہے
من شك في كفر أعدائنا والظالمين لنا فهو كافر
جو شخص ہمارے دشمنوں اور ہم پر ظلم کرنے والوں کے کفر میں شک کرے، تو وہ کافر ہے۔

وسائل الشیعہ ج ۲۸ ص ۳۴۵
بحار الانوار ، ج ۸ ص ۳٦٦

اور شیعہ صحابہ کرام کی ایک بڑی تعداد کو اہل بیت کا دشمن اور ان پر ظلم کرنے والے سمجھتی۔

ومن أنكرهم أو شك فيهم أو أنكر أحدهم أو شك فيه أو تولى أعداءهم أو أحد أعدائهم فهو ضال هالك بل كافر
جو بھی ان کا انکار کرے، یا شک کرے، یا کسی ایک کا بھی انکار کرے، یا شک کرے، یا ان کو دشمنوں کو دوست رکھے، یا ان کے دشمنوں میں سے کسی ایک کو بھی دوست رکھے، تو وہ گمراہ ہو گیا، بلکہ کافر ہو گیا۔

بحار الانوار ج ۲۵ ص ۳٦۲

امام صادق سے مروی ہے
المنكر لآخرنا كالمنكر لاولنا
ہمارے آخر کا انکار کرنا ایسا ہے جیسے ہمارے اول کا انکار کرنا۔

بحار الانوار ج ۲۷ ص ٦١

اعلم أن إطلاق لفظ الشرك والكفر على من لم يعتقد إمامة أمير – المؤمنين والائمة من ولده عليهم السلام وفضل عليهم غيرهم يدل على أنهم كفار مخلدون في النار
جان لینا چاہئے کہ لفظ شرک اور کفر کا ان پر اطلاق جو حضرت علی اور ان کی اولاد میں سے جو امام ہیں، ان کی امامت کا اعتقاد نہیں رکھتے، اس کا ثبوت ہے کہ وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔

بحار الانوار ج ۲۳ ص ۳۹۰

آیت اللہ شیرازی اپنی کتاب الفقہ میں کہتا ہے
و اما سائر اقسام الشيعةغير الاثنى عشرية فقد دلت نصوص كثيرة على كفرهم ككثير من الاخبار المقتدمة الدالة على ان من جحد اماما كان كمن قال : ان الله ثالث الثلاثة
جہاں تک اثنا عشریہ کے سوا شیعہ کے بقیہ تمام گروہوں کا تعلق ہے تو کثیر تعداد میں نصوص ان کے کفر پر دلالت کرتی ہیں، جیسے کہ ہم نے روایات کو اس سے پہلے ذکر کیا، جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جوبھی کسی ایک امام کا انکار کرے، وہ ایسا ہے جیسے وہ شخص جو کہے کہ اللہ تین میں سے تیسرا ہے۔

الفقہ للشیرازی ، ج ۳

محمد طاہر بن محمد حسین الشیرازی النجفی القمی اپنی کتاب الاربعین فی امامة الائمة الطاہرین میں بکتا ہے
ان عائشة كافرة مستحق للنار و هو مستلزم لحقية مذهبنا
بے شک عائشہ کافرہ ہے، اور نار جہنم کی مستحق ہے، اور یہ ہمارے مذہب کی حقانیت کے لئے مستلزم ہے۔

الاربعین فی امامة الائمة الطاہرین ، ص ٦١۵

مجلسی کہتا ہے
عندنا أن من حارب أميرالمؤمنين كافر ، والدليل على ذلك إجماع الفرقة المحققة لامامية على ذلك ، و إجماعهم حجة ، وأيضا فنحن نعلم أن من حاربه كان منكرا لامامته
ہمارے ہاں ہر وہ شخص کافر ہے جس نے امیر المومنین ﴿حضرت علی﴾ سے جنگ کی ﴿حضرت عائشہ ، حضرت معاویہ، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر اور دیگر صحابہ کرام کی کھلی تکفیر﴾۔ اور اس کی دلیل فرقة المحققہ لامامہ کا اس پر اجماع ہے، اور ان کا اجماع حجت ہے، اسی طرح ہم جانتے ہیں کہ جس نے ان سے جنگ کی، تو وہ ان کی امامت کا منکر قرار پایا۔

بحار الانوار ج ۸ ص ۲٦٦

سلیم بن قیس اپنی کتاب میں حضرت علی سے منسوب قول نقل کرتا ہے کہ انہوں نے کہا
ان الناس كلهم ارتدوا بعد رسول الله صلى الله عليه و اله غير اربعة
سوائے چار کے بقیہ تمام لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے بعد مرتد ہو گئے۔

سلیم بن قیس ، ص ۵۹۸

محمد بن مسعود ابن عیاش السمرقندی اپنی کتاب تفسیر عیاشی میں لکھتا ہے
عن ابى جعفر قال كان الناس اهل الردة بعد النبى الا الثلاثة فقلت و من الثلاثة ؟ قال المقداد و ابو ذر و سلمان فارسى
نبی اکرم ﴿ص﴾ کے بعد لوگ مرتد ہو گئے ، سوائے تین کے، راوی کہتا ہے کہ میں نے پوچھا، وہ تین کون ہیں؟ فرمایا ؛ مقداد، ابوذر اور سلمان فارسی

تفسیر عیاشی ص ۲۲۳

مجلسی اپنی کتاب میں لکھتا ہے
عن مولى لعلى بن الحسين قال : كنت معه فى بعض خلواته فقلت ان لى عليك حقا الا تخبرنى عن هذين الرجلين : عن ابى بكر و عمر . فقال كافران , كافر من احبهما
علی بن الحسین کا آزاد کردہ غلام کہتا ہے کہ میں ان کے ساتھ ایک دفعہ تنہائ میں تھا، میں نے ان سے کہا کہ میرا آپ پر حق بنتا ہے کہ آپ مجھے ان دو افراد کے بارے میں بتائے، یعنی ابوبکر اور عمر ۔ تو انہوں نے کہا، دونوں کافر ہیں اور وہ بھی کافر ہیں جو ان سے محبت کریں۔

بحار الانوار ج ۲۸ ص ١۹۹

باقر مجلسی کا باپ ملا تقی مجلسی اپنی کتاب میں کہتا ہے
(و اما) انكار معاوية و عائشة فانهما خارجان عن الدين و ليسا من المسلمين
جہاں تک انکار معاویہ اور حضرت عائشہ کا تعلق ہے تو وہ دونوں دین سے خارج ہیں، اور مسلمانوں میں سے نہیں۔

روضة المتقین ج ۲ ص ۲١۸

سید عبداللہ الشبر اپنی کتاب شرح الزيارة الجامعة میں کہتا ہے
وقد دلت اخبار كثيرة على كفر المخالفين يحتاج جمعها الى كتاب مفرد
کثیر تعداد میں روایات مخالفین کے کفر پر دلالت کرتی ہیں، اور یہ محتاج ہیں کہ ان کو ایک پوری کتاب میں جمع کیا جائے۔

شرح الزيارة الجامعة ص ١۳٦

آیت اللہ بحرانی کہتا ہے
قد استفاضت الروايات والاخبار عن الائمة الابرار (عليهم السلام) – كما بسطنا عليه الكلام في كتاب الشهاب الثاقب في بيان معنى الناصب – بكفر المخالفين ونصبهم وشركهم وان الكلب واليهودى خير منهم
بڑی تعداد میں نیک ائمہ سے مروی روایات ، جیسا کہ میں نے اپنی کتاب شہاب الثاقب فی بیان معنی الناصب میں بیان کیں، مخالفین کے کفر اور ان کے ناصبی ہونے اور ان کے شرک کو ظاہر کرتی ہیں۔ اور کتے اور یہودی ان سے بہتر ہیں۔

الحدائق الناضرة ج ١۰ ص ۴۳

حسین البحرانی اپنی کتاب محاسن الاعتقاد فی اصول الدین میں کہتا ہے
فبهذا نعتقد و نقطع بان معاوية و طلحة و الزبير و المراة و اهل النهروان و غيرهم ممن حاربوا عليا و الحسن و الحسين كفار بالتاويل
اور اس وجہ سے ہم یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ معاویہ اور طلحہ اور زبیر اور وہ عورت ﴿یعنی حضرت عائشہ﴾ اور اہل نہروان اور دوسرے جو علی اور حسن اور حسین کے ساتھ لڑے، وہ کافر بالتاویل ہیں۔

محاسن الاعتقاد فی اصول الدین ص ١۵۷

مجلسی اپنی کتاب بحار الانوار میں شیخ مفید کا قول نقل کرتا ہے
قال الشيخ المفيد قدس الله روحه فى كتاب المسائل : اتفقت الامامية على ان من انكر امامة احد من الائمة و جحد ما اوجبه الله تعالى له من فرض الطاعة فهو كافر ضال مستحق للخلود فى النار
شیخ مفید اپنی کتاب المسائل میں کہتا ہے ؛ امامیہ کا اس پر اتفاق ہے کہ جو بھی کسی ایک امام کا انکار کرے ، اور جو اللہ تعالٰی نے واجب کی ہے ان کے متعلق اس کا انکار کرے، تو وہ کافر ہے، گمراہ ہے، اور جہنم میں رہنے کا مستحق ہے۔

بحار الانوار ج ۲۳ ص ۳۹۰

اہل تشیع کے ہاں اہل سنت کو ناصبی پکارا جاتا ہے۔ پہلے ایک روایت ملاحظہ ہو کہ نواصب کی شیعہ کے ہاں کیا حیثیت ہے۔

عن داود بن فرقد قال: قلت لأبي عبد الله ع ما تقول في قتل الناصب قال: حلال الدم لكني اتقي عليك فان قدرت أن تقلب عليه حائطا أو تغرقه في ماء لكيلا يشهد به عليك فافعل قلت: فما ترى في ماله قال توه ما قدرت عليه

داؤد بن فرقد کہتا ہے کہ میں نے امام جعفر سے پوچھا کہ ناصبی کو قتل کرنے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ تو انہوں نےفرمایا اس کا خون حلال ہے لیکن مجھے تجھ پر ڈر ہے اس لئے اگر تیرے لئے ممکن ہو تو اس پر کوئ دیوار گرا دے یا اس طرح پانی میں غرق کر دے کہ کوئ تجھے ایسا کرتے ہوئے دیکھ نہ لے۔

علل الشرائع للصدوق ج ۲ ص ٦۰١

شیخ نعمت اللہ الجزائری اپنی کتاب انوار النعمانیہ میں لکھتا ہے

الذي ورد في الأخبار أنه نجس وأنه شر من اليهودي والنصراني والمجوسي، وأنه كافر نجس بإجماع علماء الشيعة الإمامية

روایات میں وارد ہوا ہے کہ یہ ﴿ناصبی﴾ یہودی، عیسائی اور مجوسی سے بدتر ہوتا ہے، اور وہ باجماع علماء شیعہ امامیہ نجس کافر ہوتا ہے۔

انوار النعمانیہ ج ۲ ص ۳۰٦

اب ملاحظہ کرتے جائیے کون کون سے سنی ائمہ کرام پر شیعہ علماء ناصبی کا لیبل لگاتے ہیں۔ جب ہمارے علماء ناصبی قرار دیئے جائیں تو کیا خیال ہیں تقیہ کی چادر تلے آپ کو کچھ اور سمجھا جا رہا ہوگا؟

امام شعبی
وعامر الشعبي الناصبي المنحرف عن أمير المؤمنين
نور الأفهام للحسن الحسيني اللواساني ج ۲ ص ۳۴

امام مالک
أن الإمام مالكا كان من النواصب
امام مالک ناصبی تھے
الشيعة هم أهل السنة للدكتور محمد التيجاني السماوي، ص ١۰۳

امام شافعی
امام شافعی کے خلاف تو محقق البحرانی نے پوری ایک نظم لکھی ہے، کہتا ہے
كذبت في دعواك يا شافعي * فلعنة الله على الكاذب
شافعی، تم اپنے دعوی میں جھوٹے ہو، اور اللہ کی لعنت ہو جھوٹوں پر۔
فالشرع والتوحيد في معزل * عن معشر النصاب يا ناصبي
شریعت اور توحید ناصبیوں سے دور ہے، اے ناصبی

امام احمد
علی بن یونس العاملی اپنی کتاب الصراط المستقیم میں شیخ کشی کا امام احمد کے بارے میں قول نقل کرتا ہے
قال الكشي: هو من أولاد ذي الثدية جاهل شديد النصب
وہ زی الثتیہ کی اولاد سے ہے، جاہل، ناصبیت میں شدید ہے۔
الصراط المستقیم ج ۳ ص ۲۲۳

امام یحیی بن معین
نور الله الحسيني المرعشي التستري اپنی کتاب شرح احقاق الحق میں لکھتا ہے
نور الله الحسيني المرعشي التستري
وكذا الكلام في يحيى بن معين ، فإنه كان أمويا ناصبيا
یہی کلام یحیی بن معین کے لئے ہے، اور وہ اموی اور ناصبی ہے۔
شرح احقاق الحق ج ۳ ص ۳۹۸

امام ابو داؤد
شیخ باقر المحمودی اپنی کتاب جواہر المطالب کے حاشیہ میں ان کا تعارف کرتے ہوئے لکھتا ہے
وهو عبد الله بن سليمان بن الأشعث الناصبي
اور وہ عبداللہ بن سلیمان بن الاشعث الناصبی ہے۔
جواہر المطالب ص ١۵١
ۢ
امام ابن حبان
آیت اللہ تقی التستری قاموس الرجال میں لکھتا ہے
قول ابن حبان الناصبي
قاموس الرجال ج ۹ ص ۲۸۳

امام دارقطنی
آیت اللہ علی النمازي الشاهرودي اپنی کتاب المستدرکات میں لکھتا ہے
وكان ناصبيا
وہ ناصبی تھا۔
مستدركات علم رجال الحديث ج ۸ ص ۵١۴

ابن حجر الہیٕثمی
نعمت اللہ جزائری اپنی کتاب نورالبراہین میں لکھتا ہے
ولما نظر ابن حجر الناصبي إلى أن هذا الخبر يستلزم
نور البراہین ج ۲ ص ١۵۸

شیخ الاسلام ابن حجر عسقلانی
آیت اللہ تقی تستری اپنی کتاب قاموس الرجال میں ایک راوی کےتحت لکھا ہے
وثقه ابن حجر الناصبي
اس کو توثیق ابن حجر الناصبی نے کی ہے۔
قاموس الرجال ج ۹ ص ۲۸٦

حافظ ابن کثیر
آیت اللہ مامقانی اپنی کتاب تنقیح المقال کے حاشیہ میں لکھتا ہے
وفي البداية والنهاية للناصبي ابن كثير
اور البدایہ والنہایہ میں جو کہ ابن کثیر ناصبی کی کتاب ہے۔
تنقیح المقال ج ۵ ص ١۷۵

امام ذہبی
نور اللہ شوستری اپنی کتاب صوارم المحرقہ میں ایک جگہ لکھتا ہے
وأما ما نقله عن الذهبي الناصبي ذهب الله بنوره
اور جہاں تک اس کا تعلق ہے جس کہ ذہبی الناصبی سے نقل کیا ہے، اللہ اس کا نور ہٹا دے
صوارم المحرقہ ص ١۹۸

امام فخر الدین الرازی
شیخ باقر مجلسی اپنی کتاب بحار الانوار میں ایک جگہ لکھتا ہے
وأفحش من ذلك ما ذكره الرازي الناصبي حيث قال
اور اس سے بھی بدتر وہ ہے جس کو رازی الناصبی نےذکر کیا جب وہ کہ رہا تھا
بحار الانوار ج ۳۵ ص ۳۸۴

امام ابن جوزی
آیت اللہ تقی تستری اپنی کتاب قاموس الرجال میں کہتا ہے
ابن الجوزي هو ” عبد الرحمن بن علي الناصبي “
ابن جوزی ، اور وہ عبدالرحمٰن بن علی الناصبی ہے۔
قاموس الرجال ج ١١ ص ۵۹۹

خطیب بغدادی
تقی تستری اپنی کتاب قاموس الرجال میں کہتا ہے
ولا عبرة بقول الخطيب الناصبي
خطیب الناصبی کے قول کو کوئ توجہ نہیں دینی چاہئے
قاموس الرجال ج ۹ ص ۳۹۰

اور ایک دوسری جگہ لکھتا ہے
وفي تاريخ بغداد للخطيب الناصبي
اور خطیب الناصبی کی کتاب تاریخ بغداد میں
قاموس الرجال ج ۹ ص ۵۵۵

امام حسن بصری، امام غزالی اور امام سفیان ثوری
ملا مجلسی اپنی کتاب عین الحیاة میں کہتا ہے
أتقول : انّي تابعت الحسن البصري الملعون في عدّة أحاديث ؟ أو تابعت سفيان الثوري المعادي للامام الصادق ( عليه السلام ) والمعارض له ، وقد ذكرنا بعض أحواله في أوّل هذا الكتاب ؟
أو تعتذر عند الله بمتابعة الغزالي الناصبي يقيناً
میں کہتا ہوں، کیا تم حسن بصری کی اتباع کرو گے جو کے کئ احادیث میں ملعون قرار دیا گیا ہے؟ یا پھر سفیان ثوری کی اتباع کرو گے جو کے امام صادق کا دشمن تھا۔ یا پھر غزالی کی متابعت کرو گے جو کے کھلم کھلا ناصبی تھا۔

امام حسن بصری کے متعلق ایک شیعی روایت کو پیش کرتے ہوئے کہتا ہے
انّ أمير المؤمنين ( عليه السلام ) قال الحسن البصري : … أما انّ لكلّ قوم سامري وهذا سامريّ هذه الامة ، أما انّه لا يقول لا مساس ولكن يقول لا قتال
حضرت علی ﴿ع﴾ نے حسن بصری سے کہا ؛ ہر قوم کا ایک سامری ہوتا ہے اور یہ اس قوم کا سامری ہے۔
عین الحیاة ص ۴۲۲ ، ۴۲۳

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s