حضرت عثمان غنی (رض) مومن تھے ، فرمان نبوی (ص) کی روشنی میں

ابی جیون جو کہ مولا کے غلام تھے، انہوں نے امام علی رضا علیہ السلام سے روایت کی، آپ نے اپنے آبائے طاہرین علیہم السلام کی سند سے بیان کیا:
جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا
’’محمد (ص) ! آپ کا رب آپ پر سلام بھیجتا ہے اور فرماتا ہے:
نوجوان لڑکیاں درخت پر پکے ہوئے ثمر کی مانند ہیں ، اور جب پھل پک جائے تو فورا اتار لینا چاہئے ورنہ دھوپ اور ہوا اس کو خراب کردیں گی اور وہ کھانے کے لائق نہ رہے گا، اسی طرح سے نوجوان لڑکیاں جب بالغ ہو جائیں تو ان کی فوراً شادی کر دینی چاہئے، ورنہ وہ کسی نہ کسی فتنہ میں مبتلا ہو جائیں گی‘‘
اللہ کا یہ پیغام سن کر رسول خدا (ص) منبر پر تشریف لائے اور لوگوں کو خطبہ دیا اور انہیں اللہ کا پیغام سنایا :
لوگوں نے پوچھا : یا رسول اللہ (ص) : ہم بیٹیوں کا رشتہ کس سے کریں?
آنحضرت (ص) نے فرمایا : ہم سروں سے رشتہ کرو.
لوگوں نے کہا : یا رسول اللہ ! ہم سر کون ہیں?
آنحضرت (ص) نے فرمایا : مومن ، ایک دوسرے کے کفو ہیں

عیون اخبار الرضا ، شیخ صدوق ، جلد 1 ص 504 تا 505 ، ناشر اکبر حسین جیوانی ٹرسٹ کراچی ، پاکستان

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s