فضائل و مناقب حضرت سیدنا امیر معاويہ رضی اﷲ عنہ

رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:

اے اﷲ! معاويہ ؓ کو ہدایت دينے والا اورہدایت یافتہ بنا ديجئے اوراس کے ذریعہ سے لوگوں کو ہدایت ديجئے۔

(جامع ترمذی جلد2ص247)

رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:

اے اﷲ! معاويہ ؓ کو حساب کتاب سکھا اور اس کو عذاب جہنم سے بچا۔

( کنز العمال)

رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:

معاويہؓ میرا رازداں ہے، جو اس سے محبت کرے گا وہ نجات پائے گا، جو بغض رکھے گا وہ ہلاک ہو گا۔

(تطہیرالجنان ص19 بحوالہ محب طبری)

رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:

اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن معاويہ ؓ کو اٹھائیں گے ، تو ان پر نور ایمان کے چادر ہوگی۔

(تاریخ الاسلام حافظ ذہبی ؒ)

رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:

میری امت میں معاويہ ؓ سب سے زیادہ بردباد ہیں

حضرت سیدنا امیر معاويہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ

صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی نظر میں

سیدنا عمر فاروق بن الخطاب رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں:

جب امت میں تفرقہ اورفتنہ برپا ہو، تو تم لوگ معاويہ رضی اﷲ عنہ کی اتباع کرنا اور ان کے پاس شام چلے جانا۔ (تطہیر الجنان ص37)

حضرت علی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں:

اے لوگو! تم معاويہ رضی اﷲ عنہ کی گورنری اور امارت کو نا پسند مت کرو، کیونکہ اگر تم نے انہیں (معاويہ رضی اﷲعنہ) گم کر دیا تو  ديکھو گے کہ سر اپنے شانوں سے اس طرح کٹ کٹ کر گریں گے، جس طرح ہنظل کا پھل اپنے درخت سے ٹو ٹ کر گر تا ہے۔(البدايہ والنہايہ حافظ ابن کثیر ص130)

حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں:

میں نے سيدنا معاويہ رضی اﷲ عنہ سے بڑھ کر کسی کو سردار نہیں پایا۔

حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:

میں نے معاويہ رضی اﷲ عنہ سے بہتر حکومت کےلئے موزوں کسی کو نہیں پایا۔ (تاریخ طبری ص215)

حضرت عمیر بن سعد رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں:

اے لوگو معاويہ رضی اﷲ عنہ کا ذکر بھلائی کے ساتھ کرو، رسول اﷲ ﷺ نے ان کو ہادی اور مہدی کے لقب سے نوازا (ترمذی باب فضائل معاويہ رضی اﷲ عنہ)

حضرت سیدنا امیر معاويہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ

آئمہ کرام کی نظر میں

امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اﷲ عليہ فرما تے ہیں:

سیدنا معاويہ رضی اﷲ عنہ نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے ساتھ جنگ میں ابتداءنہیں کی۔ ( المنتقی ص251)

اماممالک رحمتہ اﷲ عليہ فرماتے ہیں :

جو شخص صحابہ کرام رضی اس عنہم میں سے کو بھی خواہ وہ ابو بکر رضی اﷲ عنہ ، عمر رضی اﷲ عنہ، عثمان رضی اﷲ عنہ، یا معاويہ رضی اﷲ عنہ ، اور عمروبن عاص رضی اﷲ عنہ، انہیں برا کہے، تو اگر يہ کہے کہ وہ گمراہی پر یا کفر پر تھے، و اسے قتل کیا جائےگا اور اگر اس کے علاوہ عام گالیوں میں سے کوئی گالی دے تو اسے سخت سزا دی جائے گی۔ (شفاءقاضی عیاض)

امام میمونی رحمتہ اﷲ عليہ کہتے کہ امام احمد بن حنبل رحمتہ اﷲ عليہ فرماتے ہیں:

لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ سیدنا معاويہ رضی اﷲ عنہ کی برائی کرتے ہیں، ہم اﷲ سے عافیت کے طلب گار ہیں اور پھر مجھ سے فرمایا کہ جب تم ديکھو کہ کوئی شخص صحا بہ رضی اس عنہم کا ذکر برائی کے ساتھ کر دہا ہے،تواس کے اسلام کو مشکوک سمجھو۔

ابراہیم بن سیرہ رحمتہ اﷲ عليہ کہتے ہیں:

میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ عليہ کو کبھی نہیں ديکھا کہ کسی کو خود مارا ہو،مگرايک شخص جس نے سیدنا امیرمعاويہ رضی اﷲ عنہ پر سب وشتم کی، اس کو انہوں نے خود کوڑے لگائے۔( رواہ الائی زکریا بن تيمہ فی الصارم المول)

امام ربیع بن نافع رحمتہ اﷲ عليہ فرماتے ہیں:

سیدنا معاويہ رضی اﷲ عنہ اصحاب رسول ﷺ کے درمیان پردہ ہیں، جو يہ پردہ چاک کرے گا، وہ تمام صحابہ رضی اﷲ عنہ پر لعن طعن کی جرات کر سکے گا۔

حضرت مجاہد رحمتہ اﷲ عليہ فرماتے ہیں

تم لوگ سیدنا معاويہ رضی اﷲ عنہ کے کردار و اعمال کو ديکھتے تو بے ساختہ کہہ ديتے يہی مہدی ہیں۔ (حاشیہ العواصم ص205)

حضرت سیدنا امیر معاويہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ

اکابر علمائے امت و اولیائے امت کی نظرمیں

پیران پیر شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں:

میں سیدنا معاويہ رضی اﷲ عنہ کے راستے میں بیٹھا رہوں (کہ سامنے ان کی سواری آجائے) اور ان کے گھوڑے کے پیر کی دھول اڑ کر مجھ پر پڑ جائے ،تو میں سمجھوں گا کہ يہی میری نجات کا وسیلہ ہے ۔ (خلاصہ غنیة الطالبین ج1ص171)

قاضی عیاض رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں:

سیدنا معاويہ رضی اﷲ عنہ حضور انور ﷺ کے صحابی اور برادر نسبتی ہیں، کاتب رسول اور وحی الٰہی کے امین ہیں، جو انہیں برا کہے اس پر خدا،رسول اور فرشتوں کی لعنت۔ (الشفاءص95)

حضرت شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی رحمتہ اﷲ عليہ فرماتے ہیں:

تم لوگ معاويہ رضی اﷲ عنہ کی بدگمانی سے بچو کہ وہ ايک جلیل القدر صحابی رضی اﷲ عنہ ہیں او زمرہ صحابیت میں بڑی فضلیت والے ہیں۔

خبردار !!! ان کی بدگمانی میں پڑ کرگناہ کے مرتکب نہ ہونا ۔(ازالة الخلفاءج1ص113)

حضرت سیدنا امیر معاويہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ

عہدحاضر کے علمائے کرام کی نظر میں

حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمتہ اﷲ عليہ فرماتے ہیں:

سیدنا معاويہ رضی اﷲ عنہ کا شمار ان ظیم المرتبت صحابہ رضی اﷲ عنہم میں ہوتا ہے، جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت سے منفرد حصہ پایا۔

حضرت مولانااشرف علی تھانوی رحمتہ اﷲ عليہ فرماتے ہیں:

بعض لوگ غلط فہمی سے سیدنا معاويہ رضی اﷲ عنہ کو جلیل القدرصحابہ رضی اﷲ عنہم سے الگ کر ديتے ہیں، ان کی يہ تقسیم سراسر نا انصافی پر مبنی ہے ۔

حضرت سید نذیر حسین دہلوی فرماتے ہیں

سیدنا معاويہ رضی اﷲ عنہ نے کفر کی حالت میں بھی کبھی اسلام کے خلاف تلوار نہیں اٹھائی ،قبول اسلام کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے اسلام کی بے مثال خدمت کی ۔

مولانا احمد رضا خان بریلوی لکھتے ہیں:

جو سیدنا معاويہ رضی اﷲ عنہ پر طعن کرے، وہ جہنمی کتوں میں سے ايک کتا ہے، ايسے شخص کے پيچھے نماز حرام ہے ۔ (احکام شریعت ج1ص69,91)

مولانا احمد علی رضوی بدایونی لکھتے ہیں

سیدنا معاويہ رضی اﷲ عنہ اور ان کے والد ماجد حضرت ابو سفیان اور والدہ ماجدہ حضرت ہندہ رضی اﷲ عنہا کی شان میں گستاخی تبرا ہے ، اس کا قائل رافضی ہے (بہار شریعت ج1ص70)

حضرت سیدنا امیر معاويہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ

کی تاریخ ساز اصلاحات وفتوحات

* · اسلامی بحری بيڑے کا قیام۔
* · بڑے بڑے اخلاقی مجرموں کے لئے خصوصی پولیس(سی ۔آئی۔ اے سٹاف) کی بنیاد۔
* · دس بڑ ی بڑی سلطنتوں کے 5400علاقوں پر اسلامی پرچم لہرایاگیا۔
* · عرب میں زراعت کو فروغ دے کر بڑی بڑی نہروں اور بندوں کا قیام۔
* · محکمہ رجسٹرار او نقول کا قیام۔
* · جہازسازی کے کارخانے۔
* · دنیا کا سب سے بڑا شہر ”قیساريہ“ جس کے 300 بازار تھے اور جس کی حفاظتی پولیس کی تعداد ايک لاکھ تھی، اس پر اسلامی حکومت قائم کی گئی ۔
* · خانہ کعبہ پر سب سے پہلے دیبا اور حریر کا غلاف چڑھایا گیا۔
* · احادیث جمع کرنے اور دینی شعائر کے تحفظ کےلئے باقدہ محکمہ کا اجرا
* · شکایات سیل کا قیام
* · سرمائی اور گرمائی افواج کی تشکیل
* · حفاظتی قلعوں کی تعمیر
* · بری اوربحری فوج کی بنیاد
* · پارلیمنٹ کا قیام

جرنیل اسلام حضرت سیدنا امیر معاويہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کے

تابناک جہادی کارنامے ايک نظر میں

·جنگ یمامہ میں مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد کیا
19ھ میں آپ رضی اﷲ عنہ نے روم کا مشہور شہر قیساريہ فتح کیا۔
حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت میں آپ رضی اﷲ عنہ نے چار سال شام کے گورنر رہے اور روم کی سرحدوں پر جہاد کرتے ہوئے بہت سارے شہر فتح کےے۔
25ھ میں روم سے جاری جہاد میں عموريہ جا پہنچے اور راستے میں فوجی مراکز قائم کئے۔
25ھ میں قبرص پر لشکر کشی کی اور مسلمانوں کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ نے بحری بیڑہ تیار کروایا اور پہلی بار بحری جنگ کا واقعہ پیش آیا۔
28ھ میں قبرص کا عظیم الشان جزیرہ آپ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھوں فتح ہو گیا اور وہاں کے کافروں پر آپ رضی اﷲ عنہ نے جزیہ عائد کیا۔
32ھ میں آپ رضی ا ﷲ عنہ نے قسطنطنیہ کے قریبی علاقوں میں جہاد جاری رکھا۔
35ھ میں آپ رضی اﷲ عنہ کی قیادت میں غزوہ ذی خشب پیش آیا۔
42ھ میں غزوہ بحستان پیش آیا اور آپ رضی اﷲ عنہ ہی کے دور خلافت میں سندھ کا کچھ حصہ بھی مسلمانوں کے زیرنگیں آیا۔
42ھ میں کابل فتح ہوا اور مسلمان ہندوستان میں قدابیل کے مقام تک پہنچ گئے۔
43ھ میں ملک سوڈان فتح ہوا اور بحستان کا مزید علاقہ مسلمانوں کے قبضے میں آیا۔
45ھ میں افریقہ پر لشکر کشی کی گئی اور ايک بڑا حصہ مسلمانوں کے زیرنگیں آیا۔
46ھ میں صقلیہ(سسلی)پر پہلی بار حملہ کیا گیا اور کثیر تعداد میں مال غنیمت مسلمانوں کے قبضے میں آیا۔
47ھ میں افریقہ کے مزید علاقوں میں جہادجاری رکھا۔
49ھ میں آپ رضی اﷲ عنہ نے قسطنطنیہ کی طرف زبردست اسلامی لشکر روانہ فرمایا، جو مسلمانوں کا قسطنطنیہ پر پہلا حملہ تھا۔
50ھ میں قبستان جنگ کے بعد قبضہ میں آیا۔
54ھ میں آپ رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت میں مسلمان دریائے جیجون کو عبور کرتے ہوئے بخارا تک جا پہنچے۔
56ھ میں غزوہ سمر قند پیش آیا۔

سیدنا معاويہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے رومیوں کے خلاف سولہ جنگیں لڑی حتی کہ آخری وصیت بھی ےہی تھی کہ ”روم کا گلا گھونٹ دو“

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s