سنی مسلمان شیعہ کی تکفیر کیوں کرتے ہیں؟

حضرت مجدد الف ثانی ؒ کے بتائے ہو ئے قاعدہ کے مطابق شیعہ کی تکفیر کی وجہ يہ ہے کہ شیعہ حضرات خلفاءراشدین اور ديگر حضرات صحابہ کرامؓ کی تکفیر کرتے ہیں ہے اور اس کے نصوص قطعیہ او احادیث صحيحہ متواترہ کا رد اور انکا لازم آتا ہے جو کفر ہے چنانچہ حضرت مجدد الف ثانی لکھتے ہیں۔

ہم یقین سے جانتے ہیں کہ حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمرؓ مومن ہیں اور خدا تعالیٰ کے دشمن نہیں ہيں اور ان کو جنت کی خوشخبری دی گئی ہے لہٰذا ان کو کافر کہنے سے کفر کہنے والے کی طرف لوٹے گا (رد رفض ص37) نیزارشاد فرماتے ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ حضرات شیخینؓ اکابر صحابہ ؓ میں سے ہیں بلکہ افضل الصحابہؓ ہیں پس ان کو کافر ٹھہرانا بلکہ ان کی تنقیص کرنا کفر و زندقہ اور گمراہی کا باعث ہے (رد رفض ص38) اور اس سے قبل تحریرفرماتے ہیں ۔جب شیعہ ان بزرگوں کی مذمت کرتے ہیں تو گویا وحی کی مخالفت کرتے ہیں اور وحی کی مخالفت کھلا کفر ہے۔ (رد رفض ص11,12 )

حضرت مجدد الف ثانی ؒ نے جو کچھ فرمایا ہے بالکل بجا ہے۔ذیل کے حوالے ملاحظہ فرمائیں۔

شیعہ اور امامیہ کے نزديک حضرات خلفاءثلاثہ کی تکفیر

قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے

ان الذین امنو ثم کفروا الایة (النساء:20) اصول کافی کی خان ساز روایت کے مطابق حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا کہ :۔

يہ آیت فلاں اورفلاں اور فلاں کے بارے میں نازل ہوئی ہے پہلے وہ آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے پھر جب ان پر (حضرت علی ؓ کی) امامت ولایت پیش کی گئی تو وہ کافر ہو گئے(آخر میں کہا)کہ ان میں ذرا بھر ایمان باقی نہ رہا۔(اصول کافی ص420 طبع ایران)

اور اصول کافی کی مشہور شرح الصافی میں ہے۔

امام گفت ایں آیت نازل شد در ابوبکر وعمر و عثمانؓ۔(الصافی جز ءسوم حصہ دوم ص98)

امام جعفر صادق نے فرمایا کہ اس آیت کا بیان نزول ابوبکر،عمر اور عثمان ہیں۔

اور اصول کافی میں ہے کہ قران کریم کی اس آیت کریمہ وکرہ الیکم الکفر والفسوق العصیان (پارہ26۔ الحجرات۔1) کا مصداق

الاول الثانی الثالث (اصول کافی ج1ص426طبع ایران)

اول (ابوبکرؓ)دوم(عمرؓ) اورسوم (عثمان ؓ) ہیں۔ (یعنی تینوں ہی عنداﷲ تعالیٰ ناپسندیدہ ہیں)

جب بڑوں نے اپنے دل کی بھڑاس یوں نکالی ہے تو ان کے چلے بھلا حضرات خلفاءثلاثہ اور دیگر حضرات کرام ؓ کو کیونکر مخلص مسلمان مومن نيک و عادل سمجھ سکتے ہیں۔ الجامع الکافی کے کتاب الروضة میں رافضیوں کے پانچویں معصوم امام محمد باقر ؒ کا قول نقل کیا ہے۔

ان الشخین فارقا الدنیا ولم یتوبا ولم یتناکرا ما صنعا بامیرالمومنین علےہ السلام فعلیھا لعنة اﷲ والملائکة والناس اجمعین۔(کتاب الروضة ص115 طبع لکھنو)

ابوبکرؓو عمرؓ دنیا سے رخصت ہوئے نہ تو انہوں نے توبہ کی اور نہ انہوں نے اس کاروائی پرندامت محسوس کی جو انہوں نے امام الومنین حضرت علیؓ سے کی سو ان دونوں پر اﷲ تعالیٰ اور فرشتوں اورتمام لوگوں کی لعنت ہو۔

نہ توحضرت ابوبکرؓ نے حضرت علیؓ کا کوئی حق غصب کیا اور نہ ان کی حق تلفی کی اور نہ حضرت عمرؓ نے اور نہ ہی حضرت امام باقرؒ نے حضرات الشیخینؓ کے بارے میں يہ خرافات کہی يہ رافضیوں کے اپنے گندے سينے کا ابال ہے جو ان کا نام لے کر نکالا گیا ہے۔ ملاباقر مجلسی نے ايک خالص ابلیسی اور شیطانی حکایت اختراع کی اور يہ لکھا کہ جہنم کے سب سے نچلے اور ساتویں طبقے میں دو شخص ديکھے گئے جن کو الٹا لٹکایا گیا ہے اور ان کی گردنوں میں آگ کی زنجریں ہیں اور ان کی لوہے کے گرزوں سے پٹیا جا رہاہے ابلیس کہتا ہے میں نے اﷲ تعالیٰ سے پوچھا يہ کون لوگ ہیں جواب ملا۔

اینہا دو دشمن ایشاں جو روستم کنندہ برایشاں اندیعنی ابوبکر ؓوعمرؓ۔(حق الیقین ص510)

کہ ابوبکرؓ عمرؓ ہیں جو اہل بیت کے دشمن اور ان پر ظلم کرنے والے ہیں۔

معاذاﷲ تعالیٰ يہ ہے ۔ملا باقر مجلسی کی ابلیسی کہانی

رافضیوں کے مستند ترین مصنف ابو جعفر کلینی نے جس طرح اپنے پانچویں امام کے کندھے پر کفر کی بندوق رکھ کر حضرات شیخینؓ ہر فائر کیا ہے اسی طرح انہوں نے اپنے ساتویں امام ابوالحسن ؒ کا ايک طویل بیان ساسند نقل کیا ہے جس ميں يہ الفاظ بھی ہیں کہ

مجھے اپنی زندگی کی قسم ابوبکرؓ وعمرؓ اس سے پہلے ہی منافق تھے اور ان دونوں نے اﷲ کے کلام کو رد کیا اور دونوں نے آنحضرت ﷺ سے استہزا کی اور وہ دونوں کافر ہیں ان پر اﷲ تعالیٰ فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو۔(کتاب الروضة ص62 طبع لکھنو)

غور فرمائیں کہ روافض کے خبیث طبقہ نے چکر کاٹ کاٹ کر حضرات شیخینؓ پر کس طرح ظالمانہ تیر چلائے ہیں اور حضرات ائمہ کرام ؒ کے ناموں کو اس سلسلہ میں کس مکارانہ طریقہ سے استعمال کیا ہے اگر حضرت ابوبکرؓ وعمرؓ اور عثمان ؓ معاذ اﷲ تعالیٰ کافر ہوتے تو حضرت علی ؓ اپنے بیٹوں کے نام ابوبکر وعمر و عثمان نہ رکھتے حالانکہ انہوں نے يہ نام رکھے۔(تذکرہ ائمہ ملا باقر مجلسی وجلاالعیون ج2ص195 اردو) اور اگر حضرت عمرؓ کافر ہوتے تو حضرت علی ؓ اپنی بیٹی ام کلثومؒ کا نکاح ان سے کیوں کراتے قاضی نوراﷲ شوستری لکھتے ہیں کہ

اگر نبی دختر بعثمان دا دولی دختر بہ عمرؓ فرستاد۔

اگر آنحضرت ﷺ نے اپنی لڑکی حضرت عثمانؓ کودی تو حضر ت علیؓ نے اپنی لڑکی حضرت عمرؓ کو دی۔ (مجالس المومنین مجلس سوم ص59طبع ایران)

اس کاروائی کو مجبوری پر حمل کرنا خبث باطن ہے کیونکہ نہ تو آنحضرتﷺ کو کوئی مجبوری تھی اور نہ حضرت علیؓ کو۔ ملا باقر مجلسی نے حضرت امام زین العابدین پر افتراءباندھتے ہوئے يہ لکھا کہ انہوں نے فرمایا کہ

ہر دو ابو بکر وعمرؓ کافر بودنددہر کہ ایشان رادوست دارد کافراست(حق الیقین ص522)

ابوبکرو عمرؓ دونوں کافر تھے اور جو ان سے دوستی رکھے وہ بھی کافر ہے۔

ملاحظہ کيجئے کہ اس ظالم مفتری نے کس طرح حضرت امام زین العابدین پر حضرات شیخینؓ کی اور ان کے ساتھ دوستی اور محبت کرنے والوں کی تکفیر کا بہتان تراشا۔۔۔

عام حضرات صحابہ کرام ؓ کی تکفیر وتنقیص:۔

یہ تو تھی حضرات شیخینؓ اور حضرات خلفاءثلاثہؓ کی ناجائز تکفیر کی رام کہانی ا ب آپ ديگر حضرات صحابہ کرامؓ اور حضرات ازواج مطہرات ؓ وغیرہا کے بارے میں شیعی افسانہ ملاحظہ کرلیں۔

فروع کافی میں امام باقرؒ سے (ان پر افتراءکرتے ہوئے يہ جعلی) روایت ہے کہ

انہوں نے فرمایا کہ جناب رسول اﷲ ﷺ کی وفات کے بعد سب صحابہؓ مرتد ہو گئے تھے۔(العیاذ باﷲ تعالیٰ) مگر صرف تین۔(روای کا بیان ہے کہ ) میں نے سوال کیا وہ تین کون تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ مقداد بن الاسواد ابوذر غفاری اور سلمان فارسی اﷲ تعالیٰ کی ان پر رحمت اور برکتیں ہوں۔(فروع کافی ج8ص245، کتاب الروضة ص115)

شیعہ اور امامیہ کے قدوة المحدثین عمدة المجتہدین شیخ الاسلام ملا محمد باقر مجلسی (المتوفی1110ھ لکھتے ہیں کہ

(شیخ کشی نے )جن سند کے ساتھ حضرت امام محمد باقرؒ سے يہ روایت بھی کی ہے کہ صحابہ آنحضرت ﷺ کے بعد مرتد ہوگئے تھے مگر تین آدمی حضرت سلمانؓ۔ حضرت ابو ذار اور حضرت مقداد روای نے کہا کہ حضرت عمار ؓ سے کیا ہوا؟ حضرت نے فرمایا کہ وہ تھوڑا سا جھکاﺅ تو رکھتے تھے پپر جلدی سے پھر گئے(یعنی معاذ اﷲ تعالیٰ مرتد ہوگئے)(حیات القلوب ج2 ص837)

اور يہ روایت رجال کشی ص8 میں اور تفسیر صافی ص389 تحت قولہ تعالیٰ وما محمد الا رسول الایة میں بھی مذکور ہے اورمشہور شیعی عالم مامقانی ارتداد صحابہ کرام ؓ کی روایات کو متواتر کہتا ہے (تنقیح المقال ج1ص216) معاذ اﷲ تعالیٰ اگر شیعہ و امامیہ کے اس باطل نظريہ کو تسلیم کر لیا جائے کہ آنحضرتﷺ کے بعد بجز چند حضرات کے باقی تمام حضرات صحابہ کرام ؓ مرتد ہوگئے تھے تو اس سے نصوص قطعیہ کا جن میں سے بعض کا ذکر عنقریب آرہا ہے انشاءاﷲ العزیز انکار اور رد لازم آتا ہے اسی طرح صريح و صحيح ومتواتر احادیث کی مخالفت ہوتی ہے اور اجماع امت کا انکار اس پر مستراد ہے اگر معاذ اﷲتعالیٰ حضرات صحابہ کرامؓ مسلمان نہ تھے تو پھر ان کے جمع اورنقل کردہ قران کریم اور روایات کا کیا اعتبار ہو سکتا ہے ؟ اور ان کے پیش کردہ دین پر کيسے اعتماد کیا جا سکتا ہے؟ اور معاذ اﷲ تعالیٰ اس سے يہ بھی لازم آتاہے کہ آنحضرت ﷺ 23سال تک جو تعلیم ديتے رہے وہ ناقص تھی اور آپ نا کام معلم تھے کہ امتحان کا وقت آیا۔ تو بجز چند حضرات کے باقی سبھی ناکان ہو گئے يہ بات نہایت ہی قابل غور ہے۔

مرے نقص خودی و بےخودی سے مے کدے والو

مجھی پر ہی نہیں ساقی پہ بھی الزام آتا ہے

شیعہ کے عمدة المحدیثن ملا باقر مجلسی۔ حضرت ابوبکرؓ۔ حضرت عمرؓ حضرت عائشہؓ اورحضرت حفصہ ؓ کے بارے میں لکھتے ہیں۔پس آں دو منافق وآندو منافقہ بايکہ یگر اتفاق کردند کہ آنحضرت رابز ہر شہید کنند(حیات القلوب ج2ص745طبع لکھنو) اورحضرت عمرؓ کے بارے میں لکھا ہے کہ او ہمیشہ ورشک وکفر بود(حیات القلوب ج2ص492) حضرت عثمان کے بارے میں لکھا ہے کہ کہ آن منافق درپہلوئے جاريہ دختر رسول خوابید وبار زنا کردالی قولہ وآن بے حیائے منافق نیز ہمراہ جنازہ بیرون آمدہ بود(حیات القلوب ج2ص722) اور لکھا ہے پس عائشہ منافقہ بآںجناب گفت ( حیا ت القلوب ج2ص744)

یہی ملا باقر مجلسی لکھتا ہے کہ

جب ابو سفیانؓ مسلمان ہوا تو منافق تھا اور منافق ہی مرا اور وہ منافقت ہی سے مشہور تھا۔( تذکرة الائمة معصومین علہيم السلام ص76)

اور اسی صفحہ( 76) میں حضرت ابو سفیان کی اہليہ آنحضرت ﷺ کی ساس حضرت ام المومنین ام حبیبہؓ اور حضرت معاويہ ؓ کی والدہ ماجدہ حضرت ہندہؓ کے بارے میں لکھتا ہے وہند زانیہ اھ لا حول ولا قوة الا باﷲ ملاحظہ کيجئے شیعہ محقق اور خمینی کے قابل اعتماد کی بکواس۔کتب احادیث و تفاسیر میں موجود ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے عورتوں سے بیعت لی اور يہ شرط پیش کی ولا ینر نین کہ عورتوں زنانہ کریں گی تو اس پر حضرت ہندہؓ نے فرمایا کہ یا رسول اﷲ! کیا کوئی شریف عورت بھی زنا کرتی ہے؟ آپﷺ نے فرمایا کہ بخدا شریف عورت زنا نہیں کرتی۔(تفسیر ابن کثیر ج4ص354)

اورايک روایت میں ہے کہ انہوں نے۔

فرمایا کیا شریف عورت بھی زنا کرتی ہے ہم تو دور جاہلیت میں زنا سے شرماتی تھیں تو بھلا اسلام میں کيسے کر سکتی ہيں۔(تفسیر درمنثور ج6ص209، مستدرک ج4ص17، البدےہ والنہایہ ج4ص419، وکتاب الاعتبار ص225)

مگر شیعہ شنیعہ کی بلا سے انہیں تو حضرات صحابہ کرامؓ کو بدنام کرنا ہے خواہ کچھ بھی ہو۔ اور يہی دریدہ دہن ملا باقر مجلسی حضرت امیر معاويہؓ کے بار ے میں لکھتا ہے۔

معاويہ ؓ کا حال ابتداءمیں مولف قلوب کا تھا اور وہ جب اسلام لایا تو منافق بلکہ کافر تھا(پھر آگے لکھا کہ)و ملعون شراب خور تھا اور جب مراتو شراب اس کے پیٹ میں اور بت اس کی گردن میں تھا۔(تذکرة الائمة یا ائمہ المعصومین ص76)

ملا باقر مجلسی کا خبث باطن ملاحظہ کيجئے کہ وہ کیا کہ گیا ہے؟

اب آپ شیعہ کے امام اول حضرت علی ؓ کا بیان ملاحظہ کریں کہ انہوں نے حضرت امیر معاويہؓ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا۔

نہج البلاغة میں ہے۔

حضرت علی ؓ نے تمام شہروں کے باشندوں کو سرکاری فرمان لکھا اوراس میں يہ واضح کیا کہ جو کچھ ان کے اور اہل صفین کے درمیان واقع ہوا ہے اور فرمایا کہ اس واقعہ کی ابتداء یوں ہوئی کہ ہم میں اور اہل الشام کے گروہ میں (جن کے سر براہ حضرت امیر معاويہؓ تھے) مقابلہ ہوا اور ظاہر بات ہے کہ ہم دونوں کا رب ايک ہی ہے اور ہمارا نبی بھی ايک ہی ہے اور ہمارا دین بھی ايک ہی ہے، نہ ہم ان سے ایمان باﷲ اور تصدیق بالرسول میں زیادہ ہیں اور نہ وہ ہم سے زیادہ ہیں ہمارا اور ان کا دین ايک ہے ہمارا اور ان کا اختلاف حضرت عثمانؓ کے خون کے بارے میں ہے کہ ہم اس خون سے بالکل بری ہیں۔

اس سے بالکل آشکارا ہو گیا کہ حضرت علیؓ تو حضرت امیر معاويہ ؓ اور ان کے تمام ساتھیوں کو جو شام کے باشندے تھے اپنے جیسا مومن اورمسلمان سمجھتے تھے اورکیوں نہ ہو جب خود آنحضرتﷺ نے ان دونوں جماعتوں کو اپنی زبان مبارک سے مسلمان فرمایا ہے جن میں حضرت حسنؓ نے صلح کرائی تھی۔( ان انبی ہذا سید ولعل اﷲ ان یصلح بہ بین فئتین عظمتین من المسلمین، بخاری ج1ص373، و ج1ص514)

تو حضرت علی ؓ ان کو کیوں کافر سمجھتے؟؟؟ اورحضرت علی ؓ سے بڑھ کرحضرت امیر معاويہؓ اور ان کے ساتھیوں سے اور کون واقف ہو سکتا ہے۔لہٰذا ان کا ارشاد اس سلسلہ میں حرف آخر ہے ادھر ادھر جھانکنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے ؟

ویرانوں میں نہ جا کے دفینے تلاش کر

دل کو کرید اس میں خزانہ چھپا نہ ہو

رافضیوں کی بدزبانی :۔

رافضیوں کے جھوٹے اور بہتان تراش راویوں نے حضرت امام ابو جعفر محمد باقرؒ کی طرف نسبت کرکے يہ لکھا کہ انہوں نے فرمایا کہ

بےشک ہمارے شیعہ کے علاوہ باق تمام لوگ کنجریوں کی اولاد ہيں۔(کافی کتاب الروضة ج8ص285طبع ایران)

اور حضرت امام جعفر صادق ؒ پر افتراءباندھا کہ انہوں فرمایا کہ

تحقیق سے اﷲ تعالیٰ نے کتے سے بدتر مخلوق نہیں پیدا کی اورسنی خدا تعالیٰ کے نزدیک کتے سے بھی زیادہ ذلیل ہے۔(حق الیقین ص516)

ملاباق مجلسی ہی لکھتا ہے کہ ۔

جو شخص حضرت ابوبکرؓ اورحضرت عمرؓ کو حضرت علیؓ سے پہلے خلیفہ برحق مانتا ہو وہ ناصبی ہے محصلہ (حق الیقین ص521)

اور دور حاضر میں شیعہ کا نائب الامام خمینی یوں گوہر افشانی کرتا ہے۔

ہم اس خدا کی عبادت کرتے ہیں اور اس خدا کو جانتے ہیں جس کے کام عقل و خرو کی بنیاد پر قائم ہوں اور عقل کی کہی ہوئی باتوں اور کاموں کے علاوہ اورکچھ نہ کرے ہم اس خدا کے قائل نہیں جس نے خدائی کی بنیاد خدا پرستی۔عدالت اور دینداری سے بلند ہو اور خود اسکی خرابی میں کوشاں ہوا اور یزید۔معاوےہؓ۔ اور عثمانؓ جیسے بادقماشوں اور غنڈوں کو امارت وحکومت سپرد کرے۔(کشف الاسرار ص103)

اس کا صاف مطلب يہ ہوا کہ خمینی خدا تعالیٰ کی شناخت اور عبادت سے بالکل بیزار ہے اس لئے کہ تاریخ يہ بتاتی ہے کہ اﷲ تعالی نے حضرت عثمانؓ حضرت امیر معاويہ ؓ اوریزید کو حکومت و قتدار دیا ہے اور ایسے خدا کا خمینی قائل نہیں اور خمینی کی شرافت اور تہذیب ملاحظہ کریں کہ وہ حضرت عثمانؓ اورحضرت امیر معاويہ ؓ جیسی بزرگ ہستیوں کو چپاولچی غنڈے اور بدقماش قرار دیتاہے اور ایران کے مظلوم سنیوں پر جو مظالم خو د اس نے ڈھائے اورمسلسل ان میں اضاف ہو رہا ہے وہ بالکل اسے نظر نہیں آتے سچ ہے

غیر کی آنکھوں کا تنکا تجھ کو آتا ہے نظر

دےکھ اپنی آنکھ کا غافل ذرا شہتیر بھی

چھوٹے میاں:۔

يہ تو شیعہ اور روافض کے بڑوں کا خبث تھا جو حضرات صحابہ کرامؓ اور اہل السنت والجماعت کے خلاف انہوں نے اگلا ان کے ايک اور مجتہد کا حوالہ بھی ديکھ ليجئے۔شیعہ وامامیہ کے حجة الاسلام علامہ غلام حسین نجفی (فاضل عراق) سر پرست ادارہ تبلیغ اسلام ایچ بلاک ماڈل ٹاون لاہور لکھتے ہیں

کیونکہ ابوبکر عمر عثمانؓ کی خلافت کے بارے میں يہ جو شخص يہ عقیدہ رکھتا ہے کہ يہ خلافت حق ہے وہ عقیدہ بالکل گدھے کے عضو تناسل کی مثل ہے کیونکہ جیسی خلافت ہو اس کےلئے ویسا ہی عقیدہ چاہےے۔ بلفظہ( حقیقت فقہ حنفيہ در جواب فقہ جعفريہ ص72 )

قارئین کرام ! اس مزعوم مجتہد کی بدزبانی اور بکواس ديکھئے کہ اس نے حضرات خلفاءثلاثہؓ کی خلافت کو حق تسلتم کرنے والوں کے بارے میں میں جو جمہور امت ہے کیا گوہرافشانی کی ہے اور ان تقيہ سازوں متعہ بازوں اور اکذب الطوائف سے بھلا توقع بھی اورکیا ہو سکتی ہے ؟ کل انا ءیتر شح بما فيہ

قسمت کیا ہر ايک کو قسام ازل نے

جو شخص کہ جس چیز کے قابل نظر آیا

حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا فرمان:۔

آپ میں جنگ وجدال کے خطرہ کے پیش نظر ايک موقع پر حضرت عائشہ نے حضرت علی ؓ کے پاس اپنا قاصد بھیجا کہ وہ صلح واتفاق کےلئے آئی ہیں اس پر طرفین اور فریقین بڑے ہی خوش ہوئے(تاریخ الام والملوک للطبری ج4ص489) حضرت علی ؓ نے لوگوں کو جمع کر کے اﷲ تعالیٰ کى حمدوثناء کے بعد زمانے جاہلیت کی بدبختی اور بداعمالی کا ذکر کیا پھر اسلام کی برکت اور خوبی بیان فرمائی اور مسلمانوں کی آپس میں الفت ومحبت اور ايک جماعت ہونے زور دیا اور فرمایا کہ

بلاشبہ اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کے نبی ﷺ کے بعد خلیفہ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور پھر ان کے بعد عمر بن الخطاب ؓ اور پھر ان کے بعد حضرت عثمان ؓ پر جمع کیا پھر امت میں اختلاف کا يہ حادثہ پیش آیا۔(تاریخ الام والملوک للطبری ج4ص493، البداےہ النہایہ ج7ص339، ابن خلدون ج2ص1079)

اس سے معلوم ہوا کہ حضرت علیؓ کے نزدذيک آیت استخلاف کی روشنی میں يہ تینوں حضرات خلفاءتھے اور يہ کہ اﷲ تعالیٰ نے حضرات خلفاءثلاثہ کو اسی ترتیب سے جو اہل سنت والجماعت کے ہاں مسلم ہے خلافت کے لئے انتخاب کیا اور ان کی خلافت پر لوگوں کو جمع کیااور ان کے دور میں اسلام کو خو روشن کیااور چمکایا کہ اس کی روشنی سے سارا عالم منور اور مستفید ہوا۔ خصوصاً حضرت عمرؓ کے درو میں کہ ان کے ذریعہ 2251030 مربع میل رقبہ فتح ہوا۔(الفاروق ص270)اور ان علاقوں اور ممالک کے مسلمانوں نے اسلام کی برکات سے اپنے دامن پر کيے اور تاہنوز اسلام کے شیدائی ہیں اور انشاءاﷲ العزیز تا قیامت رہیں گے۔

حضرات شیخین ؓکی قدر و منزلت حضرت علیؓ کے نزديک:۔

اہل السنت والجماعت کی کتب حدیث و تاریخ میں حضرت علی ؓ کی زبان مبارک سے جو فضائل ومناقب حضرات شیخینؓ کے آئے ہیں وہ احصا ءوشمار سے باہر ہیں۔ چندحوالے پہلے گزر چکے ہیں۔ ايک حوالہ مزید ملاحظہ کيجئے۔

حضرت علیؓ کے زبان مبارک سے شیعہ شنیعہ کی تردید

کے لئے يہ حوالہ ایٹم بم سے کم نہیں ہے

حضرت علی ؓکاارشاد

حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ آخر زمانہ میں ايک فرقہ نکلے گا جس کا خاص لقب ہوگا جن کو رافضی کہا جائے گا وہ ہماری جماعت میں ہونے کا دعویٰ کرے گا اور درحقیقت وہ ہماری جماعت سے نہیں ہوگا اور ان کی نشانی يہ ہوگی که وہ حضرت ابوبکرؓ اورحضرت عمرؓ کو برا کہے گے تم اس فرقہ کو جہاں پاﺅں قتل کرو کيونکہ وہ مشرک ہے۔ (کنزالعمال ج6ص81)

مگر چونکہ اہل السنت و الجماعت کی کتب شیعہ اماميہ کے نزدیم حجت نہیں ہے اس لئے ہم ان کے حوالوں سے صرف نظر کرتے ہوئے اتمام حجت کے لئے شیعہ امامیہ ہی کی چند معتبر ومستند کتب کے حوالے عرض کرتے ہیں۔

(1) شیعہ وامامیہ کے محقق اور ادیب عالم علامہ ابن مثیم بحرانی حضرت علی ؓ کا وہ ارشاد نقل کرتے ہیں جوانہوں نے حضرت امیر معاويہ ؓ کو خطاب کرتے ہو ئے فرمایا تھا۔

اسلام میں ان سب میں سے افضل اور اﷲ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ کے ساتھ سب سے زیادہ کھرا اور اخلاص کے ساتھ معاملہ رکھنے والے ابوبکرصدیق اور ان کے بعد خلیفہ کے نامزد کردہ خلیفہ فاروقؓ ہیں جیسا کہ آپ بھی خیال کرتے اور جانتے ہیں مجھے عمر(کے خالق) کی قسم ان دونوں کا درجہ اسلام میں البتہ بڑا عظیم ہے ان کی موت نے اسلام کو سخت نقصان پہنچایا ہے ان پر خدا کی رحمت ہو اور اﷲتعالیٰ دونوں کا بہتر اجرا دے۔ (شرح نہج البلاغة طبع جدید ج4ص362)

اس سے معلوم ہوا کہ حضرت علیؓ کے نزدیک حضرات شیخین کا اسلام میں بہت ہی عظیم درجہ ہے اور ان کی وفات سے اسلام کو سخت نقصان ہوا ہے اور وہ دونوں برحق خلیفے اور اﷲتعالیٰ کی رحمتوں کے مستحق ہیں اور ان کے اعمال کی جو جزاء اﷲ تعالیٰ کے ہاں ہے وہ ا سکے علاوہ ہے ۔ سچ ہے

جس کا عمل بے غرض اسکی جزا کچھ اور ہے

) 2( امامیہ کے نامور عالم شریف مرتضےٰ علم الہدی حضرت علیؓ کا وہ خطبہ نقل کرتے ہیں جو انہوں نے عام مجمع میں دیا۔

یا اﷲ ! ہماری اسی طری اصلاح فرما جس طرح تو نے خلفاءراشدین کی اصلاح کی۔ سوال کیا گیا کہ خلفاءراشدین کون تھے حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ وہ میری دوست اور میری چچے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ ہیں وہ دونوں ہدایت کے امام اور قریش کے مرد تھے اور جناب رسول کرےم ﷺ کے بعد رہنما اور مقتدی تھے وہ دونوں شیخ الاسلام تھے جس نے بھی ان کی پیروی کی وہ گمراہی سے بچ گیا اور جو ان کے نقش قدم پر چلا وہ صراط مستقیم پا گیا۔

(الشافی ج2ص428طبع ایران)

اس خطاب میں حضرت علی ؓ نے حضرات شیخینؓ کو خلیفہ برق تسلیم کیا اور ان کو خلفاءراشدین مانا ہے اور ان کو محبوب اور قابل حترام تسلیم کیا ہے۔ اور ان کو خلفاءراشدین مانا ہے اور ان کو اپنا محبوب اور قابل احترام تسلیم کی ہے۔ اور آنحضرت ﷺ کے بعد انہیں امت کے لےے مقتدی کہا ہے گویا اس حدیث اقتدوا بالذین من بعدی ابی بکرؓ و عمرؓ (ترمذی ج 2ص207،۱ ابن ماجہ ص10، مستدرک ج 3ص75، مشکوة ج2ص560) کو پیش نظر رکھا ہے۔ اور انکی اتباع کو گمراہی سے بچاﺅ کاذریعہ اور انکی پیری کوہدایت اور صراط مستقیم قرار دیا ہے اﷲتعالیٰ ہر مسلمان کوان کی محبت مرحمت فرمائے۔ اوراس محبت پر تازیست قائم رکھے

محبت کی کوئی حد ہے وفا کا کچھ ٹھکانہ ہے

کہ ان کی جو رضا ہے میری قسمت موتی جاتی ہے

(3)حضرت علیؓ کا يہ فرمان اور ارشاد بھی ہے کہ

آنحضرت ﷺ کے بعداس امت میں سب سے افضل ابوبکرؓ اور عمرؓ ہیں اور بعض روایات میں ہے کہ اگر میں تیسرے (حضرت عثمانؓ) کا نام بھی لوں تو یں ایسا کر سکتا ہوں۔ (الشافی ج1 ص171اور ےہ روایت السنة ص242`243، عبداﷲ بن احمد بن حنبلؒ میں بھی ہے)

ان صریح حوالوں سے ثابت ہوا کہ حضرت علیؓ حضرات شیخین ؓ بلکہ حضرت عثمانؓ کو بھی خلیفہ بریق تسلیم کرتے تھے اب شیعہ کے مجتہد علامہ غلام حسین نجفی سے يہ سوال ہے کہ حضرت ابوبکرؓ حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کی خلافت کو برحق تسلیم کرنے والوں کے لئے جو گدھے کے عضا تناسل کا تفہ تجویز کرتے ہیں (معاذ اﷲ تعالیٰ) حضرت علیؓ کا اس تحفہ میں کیا اور کتنا حصہ ہے

خوش نہ ہو ظالم ميرے لب سلوا کر

حشر میں باتیں ہوں گی انشاءاﷲ

(4) نہج البلاغة (مولف علامہ الشریف ابو الحسن محمد الرضی بن الحسن الموسوی ( المتوفی404ھ) میں ہے۔

حضرت علیؓ نے حضرت امیر معاويہؓ کو خط لکھا کہ بے شک میری بیعت اسی قوم نے کی ہے جس نے حضرت ابو بکر۔ حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کی بیعت کی ہے اور انہیں شرطیوں پر کی ہے جن پر ان کی بیعت کی تھی سو کسی موجود کےلئے گنجائش نہیں کہ اپنی مرضی کرے اور کسی غیر حاضر کو مجال نہیں کہ وہ اس کو رد کرے اور یقینی امر ہے کہ شورٰی کا حق مہاجرین اور انصار کوحاصل ہے سو وہ جس آدمی کے بارے میں اتفاق کر لیں اور اس کا امام مقرر کریں تو اسی میں اﷲ تعالیٰ کی رضا ہے پس اگر کوئی شخص طعن کرتے ہوئے یا بدعت کا ارتکاب کرتے ہوئے ان کے فيصلہ سے سرتابی کرے گا تو وہ اسے اس چیز کی لوٹائينگے جس سے وہ نکلا ہے، اگر اس نے انکار کیا تو وہ اس سے قتال کریں گے کيونکہ وہ مومنوں کے راستہ کے بغیر کسی اورراستہ پر چل پڑاہے اور اﷲ تعالیٰ نے اس کو اسی طرف پھیر دیا ہے جدھر کو وہ چل پڑا ہے۔ اے معاويہؓ مجھے اپنی عمر (کے خالق) کی قسم اگر تو عقل سے ديکھے گا نہ کہ اپنی خواہیش سے تو تو مجھے حضرت عثمان کے خون سے بری پائےگا اور تو ضرور جان لے گا کہ میں اس سے بیزار ہوں ہاں اگر تو میرے پيچھے پڑ کر مجھے اس جرم میں آلودہ کرے تو جوخیال میں آئے کرو۔ والسلام

اس خط سے نہایت ہی واضح اور قیمتی فوائد حاصل ہوتے ہیں جن سے بعض يہ ہیں۔

(1)حضرت علیؓ حضرات خلفاءثلاثہؓ کو برحق خلفاءتسلیم کرتے تھے جیسا کہ عبارت میں تصر یح ہے۔

(2)اپنی خلافت کے حق ہونے کی يہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ مجھے اسی قوم نے خلیفہ انتخاب کیا ہے۔جس نے حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ اورحضرت عثمان ؓ کو خلیفہ منتخب کیا ہے پھر تم مجھے خلفیہ برحق کیوں نہيں تسلیم کرتے ؟

(3)جس طریقہ پر خلفاءثلاثہؓ کا انتخاب ہوا تھا کہ حضرات مہاجرین اورانصارؓ کے شورٰی سے يہ انتخاب ہوا تھا بالکل وہی طریقہ میری انتخاب کا ہے تو پھر میں کیوں خلفیہ برحق نہیں ہوں؟

(4)اگر حضرت علی ؓ کے پاس اپنی خلافت کے بارے میں آنحضرت ﷺ سے کوئی نص یا وصیت ہوتی جیسا کہ رافضیوں کا مردود دعوی ہے تو اس مقام پر حضرت علی ؓ ضرور اس کا حوالہ ديتے کہ اے معاويہ ؓ میں تو آنحضرت ﷺ بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے متعین اور مقرر کردہ خلیفہ ہوں پھر مجھے تم کیوں نہیں مانتے؟ اس اہم موقع پر حضرت علیؓ کا اپنی خلافت کے بارے میں قرآن کریم اور حدیث شریف کی کسی نص کا ذکر نہ کرنا حقیقت کو بالکل بے نقاب کر دیتا ہے کہ خلافت وصیت کے افسانے روافض کے تراشیدہ اور محض رام کہانیا ں ہیں

ہر شخص کے کردار سے تو اس کو پرکھ لے

خود اپنی کسوٹی پہ وہ کھوٹا کہ کھرا ہے

(5)مہاجرین وانصار سبھی مومن ہیں اورانمومنین کے راستے کو چھوڑنے والا غیرسبیل المومنین پر گامزن ہے اورحسب ارشاد خداوندی نولہ ما تولی کا مصداق ہے

(6) مہاجرین اور انصار کا کسی امر پر اتفاق و اجماع اﷲ تعالیٰ کی رضا ہے اور اس کی خلافت ورزی بدعت ہے۔

(7) جوشخص مہاجرین و انصار کے اس اجتماعی فیصلہ سے خروج کرے کا تو اس کے خلاف جہاد اورقتال ہوگا تا کہ وہ راہ راست پر آجائے۔ ) سبع سموت(

يہ فوائد اس عبارت سے بالکل عیاں ہیں جیساکہ کسی بھی عربی دان سے مخفی نہیں ہے اور حضرت علی ؓ کی حضرت امیر معاويہؓ کے خلاف جنگ بھی ایسی ليے ہوئی کہ ان کی تحقیق و اجتہاد میں حضرت امیر معاويہؓ بظاہر مہاجرین اور انصار کے شورٰی اور ان کے فیصلے کا احترام نہیں کرتے تھے اور حضرت امیر معاويہؓ اس لئے قتال پر آمادہ ہوئے کہ ان کی دانست میں حضرت علی ؓ مظلوم خلفیہ حضر ت عثمانؓ کے قصاص میں تساہل سے کام لے رہے تھے اور درحقیقت سبائی پارٹی نے بدنیتی کی وجہ سے فریقین کو سوچنے اورسمجھنے کا موقع نہیں دیا۔

حضرات صحابہ کرام ؓ کے بارے میں قرآنی فیصلہ:۔

والذين آمنوا وهاجروا وجاهدوا في سبيل الله والذين آوَوْا ونصروا أولئك هم المؤمنون حقا لهم مغفرة ورزق كريم

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اورہجرت کی اور اﷲ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنہوں نے مہاجرین کو جگہ دی اور ان کی مدد کی وہ لوگ وہی ہیں سچے مومن ان کے لئے بخشش ہے اور عزت کی روزی۔(پارہ10 ۔الانفال ۔ 8:74

اس آیت کريمہ میں اﷲ تعالیٰ نے حضرات صحابہ کرامؓ کے دو طبقوں کا ذکر کیا ہے کہ ايک مہاجرین اور دوسرے انصار کا اور بغیر کسی استثناء کے ان سب کو اﷲ تعالیٰ نے پکے سچے مومن کہا ہے اور ان کی مغفرت اور ان کے لئے عزت کی روزی کا وعدہ فرمایا ہے ۔ اب اگر کوئی شخص مہاجرین اور انصار میں سے کسی صحابی کو جس کا دلائل اور تاریخی شواہد سے مہاجر یا انصاری ہونا ثابت ہو چکا ہے معاذاﷲ تعالیٰ کافر۔ منافق۔مرتد اور ملحد و زندیق کہتا ہے تووہ قرآن کریم کی اس نص قطعی کا منکر اورپکا کفر ہے۔ لا شک فيہ

نیز اﷲتعالیٰ کا فرمان ہے۔

لقد رضي الله عن المؤمنين إذ يبايعونك تحت الشجرة (پ26۔الفتح۔48:18)

البتہ تحقیق سے اﷲ تعالیٰ راضی ہو چکا ہے ان مومنوں سے جنہوں نے اس درخت کے نيچے تجھ سے بیعت کی۔

اس آیت کریمہ میں اﷲ تعالیٰ نے ماضی (رضی) پر دو تاکیدیں(لام اورقد) داخل فرما کر ان حضرات صحابہ کرام ؓ کو تحقیقی اور قطعی طور پر مومن کہا ہے جنہوں نے آنحضرت ﷺ کے دست مبارک پر حدیبیہ کے مقام پر درخت (کےکر) کے نيچے بیعت کی تھی جن کی تعداد پندرہ (1500)سو تھی-(بخاری ج2ص598 اور تفسیر ابن کثیرج4ص185 میں چودہ سو ہے)جن میں مہاجرین بھی تھے اور انصار بھی تھے اور ان میں حضرت ابو بکرؓ عمرؓ اور علیؓ بھی شامل تھے عثمان ؓ کو آپ نے سفیر بنا کر بھیجاتھا اور ان کو قید کر لیا گیا(وھو الصحیح راجع تفسیر ابن کثیر ج4ص186لا قصة شہادتة فان فی السند ابن اسحق۔ابن کثیر)مگر بایں ہمہ آنحضرت ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ مبارک حضرت عثمانؓ کا ہاتھ قرار دے کر ان کی طرف سے خود بیعت کی تھی(بخاری ج1ص523) اب اگر کوئی شخص اس بیعت الرضوان میں شریک ہونے والوں میں سے کسی ایک کو بھی کافر کہتا ہے تو وہ خود کافر ہوگا۔ کیونکہ ان ، حضرات کا مومن ہونا تو یقینی طور پر نص قطعی سے ثابت ہے اور حضرت ابوبکر کا صحابی ہونا تو قرآن کریم کی اس نص قطعی اذ یقول لصاحبہ الایة سے بھی ثابت ہے اور حضرت عائشہ ؓ کی برات کے بارے میں قرآن کریم میں دو رکوع موجود ہیں لہٰذا جو شخص حضرت ابوبکر ؓ کے صحابی ہونے کا منکر ہو یا حضرت ام المومنین عائشہؓ پر معاذ اﷲ تعالیٰ قذف کرتا ہو تو وہ یقینا کافر ہے۔علامہ ابن عابدین الشامیؒ (المتوفی1250ھ فرماتے ہیں کہ )

لا شک فی تکفیر من قذف السیدة عائشہ ؓ او انکر صحبة الصدیقؓ الخ

جس شخص نے حضرت عائشہؓ پر قذف کی یا حضرت ابوبکرؓ صدیق کے صحابی ہونے کا منکر ہو تو ا س کے کفر میں کوئی شک نہیں ہے (شامی ج4 ص294 طبع1288ھ)

اور شیعہ کا کفر ایسا اور اتنا واضح ہے کہ ان کہ کفر میں توقف کرنے والا بھی کا فر ہے چنانچہ شامی ؒ تحریر فرماتے ہیں کہ

و من توقف فی کفرہم فھو کافر مثلھم (عقود العلامة الشامی ؒ ج1ص92)

جوشخص شیعہ کے کفر میں توقف کرے تو وہ بھی ان جیسا کافر ہے۔

امام ابو عبداﷲ شمس الدین الذہبی ؒ (المتوفی748ھ) فرماتے ہیں کہ

فن کفرہما والعیاذ بااﷲ تعالیٰ جاز علےہ التکفیر واللعنة (تذکرة الحفاظ ج2ص304)

اگر حضرات شیخین ؓ کی کوئی تکفیر کرے العیاذ باﷲ تعالیٰ تو اس کی تکفیر اوراس پر لعنت جائز ہے۔

خلفاءاربعہؓ کاایمان و خلافت قرآن شریف سے

تمام اہل اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ حضرت عمر ؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علی ؓ آنحضرت کے صحابی اور سچے مخلص مسلمان ہیں اوراسی ترتیب سے وہ آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد امت مسلمہ کے خلفاء انتخاب کيے گئے۔

اﷲ تعالیٰ کا ارشادہے۔

وعد الله الذين آمنوا منكم وعملوا الصالحات ليستخلفنهم في الأرض (پارہ18 -النور-24:55)

وعدہ کیا اﷲنے ان لوگوں سے جو تم میں ایمان لائے ہیں اور کيے انہوں نے نیک کام البتہ ضرور خلیفہ بنائےگا ان کو زمین کا۔

يہ خطاب ان حضرات کو ہے جو نزول قرآن کریم کے وقت مسلمان ہو کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں رہتے تھے اس خطاب میں اﷲ تعالیٰ نے ان میں اعلی درجہ کے نیک اور جناب رسول اکرم ﷺ کے کامل اتباع کرنے والوں سے يہ وعدہ فرمایا ہے کہانہیں آنحضرت ﷺ کے بعد زمین میں حکومت اور خلافت درے گا اور جو دین اسلام کو پسند ہے ان کے ذریعہ سے وہ اس کو دنیا میں پھيلائے گا اور لفظ استخلاف میں يہ اشارہ بھی ہے کہ وہ محض دنیوی بادشاہوں کی طرح ہی نہ ہوں گے بلکہ آنحضرت ﷺکے صحيح خلفاءاور جانشین ہو کر آسمانی بادشاہت کا علان کریں گے اور دین حق کی بنیادیں جمائیں گے اورخشکی وتری میں اس کا سکہ بٹھلائیں گے الحمد ﷲ کہ يہ وعدہ الہی چاروں حضرات خلفاءؓ کے ہاتھوں پورا ہوا اس آیت استخلاف سے حضرات خلفاءاربعہؓ کا باایمان اور صالح ہونا قطعاً ثابت ہے اور ان کی بڑی بھاری فضیلت اومنقبت اس سے بالکل عیاں ہے جس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں ہو سکتا۔ اگر يہ حضرات مومن اور نیک نہ ہوں تو پھر مطلب يہ ہوگا کہ اﷲ تعالیٰ نے کافروں اور بدوں کو خلافت دیدی۔(معاذ اﷲ تعالیٰ)

خلفاءاربعہؓ کاایمان و خلافت حدیث شر یف سے:۔

آنحضرت ﷺ نے ايک ہی مجلس میں جن دس سعادتمندوں کو(جن کو عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے) جنتی ہونے کی بشارت دی يہ چاروں بزرگ ان میں سرفہرست ہیں۔ حضرت عبدا لرحمن بن عوف (المتوفی32ھ) فرماتے ہیں کہ

ان النبی ﷺ قال ابو بکرؓ فی الجنة وعمر ؓ فی الجنة وعثمان ؓ فی الجنة وعلی ؓ فی الجنة الحدیث (ترمذی ج2ص216ومشکوة ج 2ص566 و الجامع الصغیر ج1ص6 وقال صحیح واسراج المنیر ج1ص27وقال حدیث صحیح ورواہ ابن ماجة ص13 عند سعید ؓبن زید)

تحقیق سے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر عمر عثمان اور علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہم جنت میں جائیں گے (بقیہ حضرات کے نام يہ ہیں: حضرت طلحہ، عبدالرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید اور ابو عبیدة بن الجراح رضی اﷲ تعالی عنہم)

اس صحیح حدیث سے حضرات خلفاءرابعہ ؓ کا جنتی ہونا ثابت ہے اور اسی پر اہل ایمان کا یقین ہے اورايک اور حدیث میں حضرتا خلفاءثلاثہؓ کو آنحضرت ﷺ نے جنت کی بشارت دی ہے ۔ چنانچہ حضرت ابو موسی (عبداﷲ بن قیس المتوفی52ھ) اشعریؓ فرماتے ہیں کہ میں ايک موقع پر دروازہ پر آپ کے دربان تھا کہ علی الترتیب حضرت ابوبکرؓ حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان ؓ آئے میں نے آنحضرت ﷺ کو ان کی آمد کی اطلاع دی اور ان کے لئے آپ سے اجازت طلب کی آپﷺ نے ان تنیوں میں سے ہر ايک کے لئے اجازت دی اور ساتھ ہی جنتی ہونے کی بشارت سنائی ۔ ائذن لہ ، وبشرہ بالنجة (بخاری ج1ص519، ج2ص522) ان کو اجازت دو اور جنتی ہونے کی خوشخبری سناﺅ اورحضرت عثمان ؓ کے بارے میں فرمایا۔

انکو اجازت دو اورجنتی ہونے کی خوشخبری سناﺅ ان پر مصیبت بھی آئےگی۔

عام حضرات صحابہ کرام ؓ کے متعلق حدیثی فیصلہ:۔

حضرت ابو سعید خدری ؓ(سعد بن مالک بن سنان المتوفی74ھ) روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ

میرے صحابہ کو برا مت کہو اسلئے کہ بےشک تم میں سے اگر کوئی شخص احد پہاڑ جتنا سونا بھی (راہ خدا میں)خرچ کرے تو صحابہ ؓ میں سے کسی کے ايک مداور نصف مد کو نہیں پہنچ سکتا۔

مد دو پونڈ وزن کا ہوتا ہے اور نصف مد ايک پونڈ کا۔

اس صحيح حدیث سے حضرات صحابہ کرام ؓ کی فضلیت و منقبت بالکل واضیح ہے کہ امتیوں میں سے کوئی غیر صحابی کرام ؓ اگر احد پہاڑ جتنا سونا بھی خرچ کرے اور کوئی صحابہ دو پونڈ یا ايک پونڈ کوئی جنس ( مثلاً گندم، مکی، دھان، لورباجرہ وغیرہ)خرچ کرے تو امتی غیر صحابی کا احد پہاڑ جتنا سونا بھی صحابی کے دو پونڈ یا ايک پونے پونڈ کے درجہ اور ثواب کو نہیں پہنچ سکتا۔کيونکہ ایمان۔ اخلاص اور اتباع سنت کا جو جذبہ حضرات صحابہ کرامؓ کو حاصل تھا وہ اورکسی کو حاصل نہیں ہو سکتا۔اور يہی وہ بنیادی امور ہیں جن سے عمل میں وزن پیدا ہوتا اور درجہ بڑھتا ہے۔

حضرت عویم ؓ بن ساعدہ انصاری بدری روایت کرتے ہیں کہ

تحقیق سے جناب آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بے شک اﷲ تعالیٰ نے مجھے چنا ہے اور میرے ليے میرے صحابہ کو چنا اور انتخاب کیا ہے ان میں سے بعض کو ميرے وزیر مددگار اور سسرال بنایا ہے سو جس شخص نے ان کو برا کہا تو اس پر اﷲ تعالیٰ ملائکہ اور تمام انسانوں کی لعنت ہو اس شخص سے قیامت کے دن نہ تو نفلی عبادت قبول ہوگی اور نہ فرض۔( مستدرک ج3ص632 قال الحاکم والذہبی صحیح)

اس صحيح روایت سے معلوم ہوا کہ جس طرح اﷲ تعالیٰ نے ساری مخلوق میں سے آنحضرت کو درجہ۔رتبہ۔ شان اور ختم نبوت کے عالی اوربلند مقام کےلئے انتخاب کیا اور چنا ہے اسی طرح اس نے از خودہی آپﷺ کے لئے حضرات صحابہ کرام ؓ کا انتخاب اور چناﺅ کیا ہے اور ان میں سے بعض کو آپ ﷺ کے وزراء(مثلاً حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کو ترمذی ج2ص208 کی روایت میں ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ واما وزیری من اہل الارض فابوبکرو عمرؓ مشکوة ج2ص560 بہرحال زمین کے باشندوں میں ابوبکرؓ اور عمرؓ ميرے وزیر ہیں) اور بعض کو انصار ومددگاراور بعض کو سسرال بنایا (جیساکہ حضرات شیخینؓ ) ظاہر امر ہے کہ جو شخص حضرات صحابہ کرام ؓ پر سب وشتم کرتاہے وہ خداتعالی کے انتخاب اﷲ کی پسنداور چناﺅ کو رد کرتا ہے تو ایسا شخص کیوں نہ فرشتوں اورانسانوں کی لعنت کا مستحق ہو اور اس کی فرضی اونفلی عبادت کیوں قبول ہو؟؟ ان صحيح حدیثوں کی موجودگی میں مزید ضرورت تو نہیں مگر صرف بطور تائید وشاہد کے تین اور روایتیں اور عرض کی جاتی ہیں۔

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ

جب تم ان لوگوں کو دےکھو جو میرے صحابہؓ کو برا کہتے ہو تو تم کہو اﷲ تعالیٰ کی لعنت ہو تمہاری شر پر (ترمذی ج2 ص227و مشکوة ص554)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرات صحابہ کرام ؓ کو سب وشتم کرنا واور برا کہنا شررات ہے اور شرارت ہمیشہ شریر ہی کیا کرتے ہیں توسامعین کا فریضہ ہے کہ جب وہ ایسی شرارت سنیں تو لعنت بھیجیں۔ حضرت عبداﷲ بن مغفل فرماتے ہیں کہ آنحضرت نے فرمایا

اﷲ سے ڈرو میرے صحابہؓ کے بارے میں اﷲ سے ڈرو ميرے صحابہؓ کے بارے میں میرے بعد ان کو اپنے طعن کانشانہ نہ بنالینا سو جس نے ان سے محبت کی تو میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا اورجس نے ان کی ساتھ بغض کیا تو میرے ساتھ بغض کی وجہ سے ہی ان سے بغض کرے گا۔ اور جس نے صحابہؓ کو اذیت دی سو اس نے مجھے اذیت دی اور جس نے مجھے اذیت دی سو اس نے اﷲ تعالیٰ کو اذیت دی (یعنی ناراض کیا) اور جس نے اﷲتعالیٰ کو اذیت دی تو قریب ہے کہ اﷲ تعالیٰ اس کو پکڑے گا۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے آنے والی نسلوں کو بار بار تاکید کرتے ہوئے حضرات صحابہ کرامؓ کو طعن ولعن کا نشانہ بنانے سے روکا ہے اور يہ فرمایا ہے کہ حضرات صحابہ کرام ؓ کے ساتھ وہی محبت کرے گا۔ جس کی آپﷺ سے محبت ہوگی اور ان سے وہی بغض وعداوت کرےگا جس کی (معاذ اﷲ تعالی) آپﷺ کی ذات گرامی سے بغض و عداوت ہوگی اور جس نے حضرات صحابہ کرامؓ کو اذیت دی تو اس نے آنحضرتﷺ کو اذیت دی اور جس نے آپ ﷺ کو اذیت دی تو گویا اﷲ تعالیٰ کو اذیت دی اور ناراض کیا اور جس نے ایساکیا تو اس کو عنقریب اﷲ تعالیٰ پکڑے گا اور جو شخص اﷲ تعالیٰ کی پکڑ اور گرفت میں آگیا تو کے لئے کیا مخلص ہے ؟؟؟ اﷲ تعالیٰ اپنی پکڑ اور گرفت سے محفوظ رکھے۔۔ ان بطش ربک لشدید۔ امام ابراہیم بن موسی الشاطبی ؒ (المتوفی790ھ) فرماتے ہیں۔

کہ امام آجری ؒ کی کتاب السنة میں ولید بن مسلم کے طریق سے حضرت معاذ بن جبل ؓ کی روایت ہے وہ فرماتے ہے کہ جناب آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ جب میری امت میں بدعات ظاہر ہوں اور میرے صحابہ ؓ کو برا کہا جائے تو عالم پر لازم ہے کہ وہ اپنا علم ظاہر کرے جس نے ایسانہ کیا تو اس پر اﷲ تعالیٰ فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو گی۔ (کتاب الاعتصام ج1 ص52 الشاطبی ؒ)

عقلی اور عربی قاعدہ ہے کہ جب کسی خزانہ اوردولت پر چور اور ڈاکو آپڑتے ہیں تو چوکیدار اور پہرہ دار ہی اصحاب دولت کو آگاہ کرتے ہیں کہ اگر ایسا نہ کریں تو يہ سمجھا جاتا ہے کہ يہ بھی چوروں اور ڈاکوﺅں سے ملے ہويے ہیں اورجس سزا کے چور اورڈاکو مستحق ہیں اس کے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سزا کے چوکیدار حقدار ہیں۔ایسے دور میں جس میں بدعات ورسوم کاخوب زور ہواور وہ نقطہ عروج پر ہوں اور حضرات صحابہ کرام ؓ کو برملا برا کہا جاتا ہو تو علماءکا شرعی او علمی فریضہ ہے کہ وہ باطل کی تددید کریں اور تبلیغ کا فرےضہ ادا کریں۔ کیونکہ علماءدین کے چوکیدار اور پہرہ دار ہیں اگر علماءخاموشی اختیار کریں گے تو و ہ اﷲ تعالی اور تمام فرشتوں اورانسانوں کی لعنت کے مستحق ہو ں گے۔کيونکہ انہوں نے اپنی ڈيوٹی ادا نہیں کی اور وہ لالچ یا ڈر کے اسیر ہو گئے۔

One thought on “سنی مسلمان شیعہ کی تکفیر کیوں کرتے ہیں؟

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s