متعہ کی حرمت

وعن المفضل قال: سمعت أبا عبد الله يقول (ع) يقول في المتعة: دعوها ، أما يستحي أحدكم أن يرى في موضع العورة فيحمل ذلك على صالحي إخوانه وأصحابه؟

مفضل سے منقول ہے کہ میں نے امام جعفر صادق کو متعہ کے متعلق فرماتے ہوئے سنا کہ اسے چھوڑ دو ، کیا تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم میں سے ایک شخص عورت کی شرم گاہ کو دیکھے اور پھر اس کا اپنے نیک بھائیوں اور ساتھیوں کے لئے ذکر کرے اور ان کو اس عورت کے ساتھ متعہ کی ترغیب دے۔

الكافي 5/453 ، البحار  100وكذلك 103/311 والعاملي في وسائله 14/450 ، والنوري في المستدرك 14/455، استبصار 3/79 ، تہذیب الاحکام 7/255

عن حفص بن البختری عن أبی عبدالله ع فی رجل یتزوج البکر متعة قال یکره للعیب علی أهلها

حفص بن بحتری سے مروی ہے کہ امام جعفر سے اس شخص کے متعلق مروی ہے جو کہ باکرہ عورت کے ساتھ متعہ کرتا ہے کہ یہ مکروہ ہے اور ناپسندیدہ، کیونکہ یہ اس کے عزیزو اقارب کے لئے عار اور عیب ہے۔

استبصار  3/79،  تہذیب الاحکام7/55

 

اسی طرح امام جعفر صادق سے منقول ہے

لا تتمتع بالمومنة فتذلها

مومنہ کے ساتھ متعہ نہ کرو، کیونکہ اس طرح تم اسے ذلیل کر دوگے۔

استبصار  7/253، تہذیب الاحکام3/77

 

مزید پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجئیے۔

المفضل

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s